urdu@du.ac.bd +880-2-9661920 Faculty of Arts, University of Dhaka
شعبۂ اُردو — ڈھاکہ یونیورسٹی
Department of Urdu
University of Dhaka | Faculty of Arts | Est. 1921

ارمان شمسی اور ان کی افسانہ نگاری

Read Online Download PDF Download DOC
Statistics
24
Visits
16
Reads
23
Downloads
Visit(s) Read(s) Download(s)
0 7 14 May-2026 Jun-2026 Jul-2026 Aug-2026 — Visits: 3 Aug-2026 — Reads: 2 Aug-2026 Sep-2026 — Visits: 14 Sep-2026 — Reads: 8 Sep-2026 — Downloads: 13 Sep-2026 Oct-2026 — Visits: 7 Oct-2026 — Reads: 6 Oct-2026 — Downloads: 10 Oct-2026
Table view
MonthVisitsReadsDownloads
May-2026000
Jun-2026000
Jul-2026000
Aug-2026320
Sep-202614813
Oct-20267610
Author(s)
Professor Dr. Mohammad Golam Rabbani
پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی
Professor
Department of Urdu
University of Dhaka
Bangladesh

Arman Shamsi and his Urdu Short Stories

Keywords
Abstract

 

Abstract

]بنگلہ دیش کے اردو افسانے نگار غلام محمد ، شام بارکپوری ،شہزاد منظر، ایوب جوہر، احمد سعدی ، راحت آرا بیگم وغیرہ کے بعد اردو افسانہ کو آگے بڑھانے والے اور بنگلہ دیش کا نام اردو دنیا میں روشن کرنے والے افسانہ نگار ارمان کشسی ہیں ۔ ان کے کل دس افسانوی مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں ۔ ” آشنائی کا کرب‘ (۲۰۰۳)، ڈھلان سے ابھرتا سورج (۲۰۰۶) ، خواب ریزے (۲۰۰۹)، پیاسی ندیا (۲۰۰۹)، شناخت (۲۰۱۱) ' کالی پری (۲۰۱۳)، ریشم کا جال (۲۰۱۴) پر چھائیاں (۲۰۱۷) ' چاند نگر (۲۰۱۷)، پرائی آنکھیں‘ (۲۰۲۰) منظر عام پر آئے ہیں۔ ارمان شمسی تقریباً ۱۶۰ افسانے لکھ چکے ہیں ۔ ہندوستان کے مختلف جرائد’آجکل (دہلی)، انتساب‘ (بھوپال)، ”شاعر (ممبئی)، رنگ‘ (دھنباد)، ”بیسویں صدی (دہلی) شمع (دہلی ) : " آنند ڈائجسٹ“ (پٹنہ) میں چھپتے رہے ہیں۔ ان کے افسانوں کا کردار حقیقی ہوتا ہے۔ دلکش انداز سے روز مرہ پیش آنے والا واقعات کو بڑی آسانی سے افسانہ کی شکل دے دیتے ہیں۔ ارمان شمسی عموماً مزدور، غربی مفلسی ، سرمایہ دارانہ طبقے کی جنس پرستی ، اکثریتی فرقے کے مظالم حکومتی ادارو ں کی عیاری ، انسانی نفسیات ، طبقاتی نابرابری جیسے موضوعات پر لکھتے ہیں ۔[

Full Article

ارمان شمسی اور ان کی افسانہ نگاری

پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی

شعبہ اردو، ڈھا کہ یونیورسٹی، بنگلہ دیش

 

Abstract

]بنگلہ دیش کے اردو افسانے نگار غلام محمد ، شام بارکپوری ،شہزاد منظر، ایوب جوہر، احمد سعدی ، راحت آرا بیگم وغیرہ کے بعد اردو افسانہ کو آگے بڑھانے والے اور بنگلہ دیش کا نام اردو دنیا میں روشن کرنے والے افسانہ نگار ارمان کشسی ہیں ۔ ان کے کل دس افسانوی مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں ۔ ” آشنائی کا کرب‘ (۲۰۰۳)، ڈھلان سے ابھرتا سورج (۲۰۰۶) ، خواب ریزے (۲۰۰۹)، پیاسی ندیا (۲۰۰۹)، شناخت (۲۰۱۱) ' کالی پری (۲۰۱۳)، ریشم کا جال (۲۰۱۴) پر چھائیاں (۲۰۱۷) ' چاند نگر (۲۰۱۷)، پرائی آنکھیں‘ (۲۰۲۰) منظر عام پر آئے ہیں۔ ارمان شمسی تقریباً ۱۶۰ افسانے لکھ چکے ہیں ۔ ہندوستان کے مختلف جرائد’آجکل (دہلی)، انتساب‘ (بھوپال)، ”شاعر (ممبئی)، رنگ‘ (دھنباد)، ”بیسویں صدی (دہلی) شمع (دہلی ) : " آنند ڈائجسٹ“ (پٹنہ) میں چھپتے رہے ہیں۔ ان کے افسانوں کا کردار حقیقی ہوتا ہے۔ دلکش انداز سے روز مرہ پیش آنے والا واقعات کو بڑی آسانی سے افسانہ کی شکل دے دیتے ہیں۔ ارمان شمسی عموماً مزدور، غربی مفلسی ، سرمایہ دارانہ طبقے کی جنس پرستی ، اکثریتی فرقے کے مظالم حکومتی ادارو ں کی عیاری ، انسانی نفسیات ، طبقاتی نابرابری جیسے موضوعات پر لکھتے ہیں ۔[

 

بنگلہ دیش میں افسانہ نگاری کے میدان میں اس وقت صرف پانچ چھ افسانہ نگار باحیات ہیں ۔ ارمان نمی ہس م ساجد، ڈاکٹر طیف احمد ، اے نعیم اور قاسم انیس کے قلم اس وقت اردو افسانہ نگاری میں رواں ہیں ۔ قاسم انیس کے کرب وجود ، بہتے الاؤ اور ایم نعیم کے محافظ ، پس پردہ وغیرہ قابل ذکر افسانے ہیں۔ راجشاہی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر لطیف احمد کے کل چو میں افسانے شائع ہو چکے ہیں۔ ان کا ”شام

ڈھلے افسانوی مجموعہ ۲۰۱۹ میں شائع ہو چکا ہے۔ اس میں بارہ افسانے ہیں اور دوسرا افسانوی مجموعہ بھی شائع ہونے والا ہے۔ ان میں مہوئے کے پھول ، کالی تلی ، کل چمن تھا آج صحرا ہوا ، وہ کون تھی، سرحد، خیر سے بدھو گھر واپس آئے، مولسری تلئے دل نے تجھے پھر یاد کیا، شیشہ کی دیوار قابل ذکر افسانے ہیں ۔ اس م ساجد افسانہ نگاری میں ایک وقفہ کے بعد پھر منظر میں آگئے ہیں۔ ۲۰۱۷ ء میں ان کا ایک سوال انگن انگن افسانوی مجموعہ شائع ہوا ہے۔ اس کے پہلے ۱۹۸۳ء میں احمد سعدی کے ساتھ دود چراغ محفل“ شائع ہوا تھا ۔ معمولی سی بات اور ٹائم پاگل کہتے ، کہانی کا قتل اور ایک سوال انگن انگن، ان کے قابل ذکر افسانے ہیں۔

بنگلہ دیش کے اردو افسانے نگار غلام محمد، شام بارکپوری، شہزاد منظر، ایوب جوہر، احمد سعدی، راحت آرا بیگم وغیرہ کے بعد اردو افسانہ کو آگے بڑھانے والے اور بنگلہ دیش کا نام اردو دنیا میں روشن کرنے والے افسانہ نگار ارمان کشی ہیں۔ ان کے کل دس افسانوی مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں۔’ آشنائی کا کرب (۲۰۰۳)، ڈھلان سے ابھرتا سورج “ (۲۰۰۶) ، خواب ریزے‘ (۲۰۰۹)، پیاسی ندیا (۲۰۰۹)،

شناخت (۲۰۱۱)، کالی پری (۲۰۱۳)، ریشم کا جال (۲۰۱۴)، پر چھائیاں‘ (۲۰۱۷)، چاند نگر (۲۰۱۷) ، پرائی آنکھیں (۲۰۲۰) منظر عام پر آئے ہیں۔ سپنوں کی چراندھ“ اور”   گھونسلے کی گھٹن“  نام سے ارمان شمسی کے اور دو افسانوی مجموعہ زیر طبع ہے۔

ارمان کسی تقریباً ۱۶۰ افسانے لکھ چکے ہیں۔ ہندوستان کے مختلف جرائد ” آجکل (دہلی) ، انتساب“ (بھوپال) ، شاعر (ممبئی) ، "رنگ" (دھنبار)، "بیسویں صدی (دہلی) شمع (دہلی)، " آنند ڈائجسٹ (پٹنہ) میں متواتر چھپتے رہے ہیں۔ انکی افسانوں کے بنگلہ ترجمے بھی ہوتے رہے ہیں۔ جن کی اشاعت اخبارات جمکنٹھو اور جائے جائے دن میں ہوتی رہی ہے۔ اس کے علاوہ ارمان شسی کے دو افسانوں کا بنگلہ ترجمہ جعفر عالم نے 'اردو گلیوں اور اوپ مہادیشیر اردو گلپیؤ مترجم افسانوی مجموعے میں شامل کیا ہیں ۔ اس کے علاوہ بنگلہ دیشیر اردو چھوٹو گلو ۲۰۱۸ میں جلد اول اور ۲۰۱۹ میں جلد ثانی شائع ہوا ہے جس میں ہیکل ہاشمی نے ارمان شمسی کے دوافسانے کا بنگلہ ترجمہ شامل کیا ہیں ۔

ارمان شمسی کا پہلا افسانوی مجموعہ " آشنائی کا کرب میں منجدھار، کھیل، جیون ایک الاؤ، بھونچال 'مہک 'آشنائی کا کرب'، 'میڈم راسپوٹن'، 'جواب'، 'درد کی تنہائیاں، روشن دان، جھوٹن ، چھوٹا گھر، بیچیں کا خمار، نامی ۱۳ افسانے شامل ہیں۔

ارمان شمسی کا دوسرا افسانوی مجموعہ ” ڈھلان سے ابھرتا سورج“ میں ایک مٹھ مائی ، فیناسی کنگڈم سپنے کا خوف، ڈھلان سے ابھرتا سورج ، بقا کی خاطر ، ساوتری ، مرغ پلاؤ ، ضمیر کا زخم، روزگار ، بھوک کا شکنجہ جھوٹے سپنے بچے خواب بھنور ، لیگی ، اور تاریک جھرو کے نام سے۱۴ افسانے ہیں۔

ارمان کشی کا تیسرا افسانوی مجموعہ "خواب ریزے“ میں نقطہ نوگریز، ممتا کی چاہ ، نمک حرام، سلگتی روشنی دکھلونا ، شکست وفا کے سائے، رینگتی حسرتیں'، 'جنت کا متلاشی'، 'تشنہ کام، 'پھولوں کے گھاؤ، آتشی پھول خواب ریزئے نام سے ۱۲ افسانے ہیں۔

چوتھا افسانوی مجموعہ ” پیاسی ندیا میں 'سماج سدھار ، شب خون، پیاسی ندیا ، پچھیا'، 'سناٹا'، 'مردانہ سماج ، اندھا پن ، سکھ، عزت کی روٹی ، استغفر اللہ، گھٹن، بیداری' ، 'حنا کے زخم جیسے ۱۳ افسانے شامل ہیں۔

ارمان کشمسی کا پانچواں افسانوی مجموعہ شناخت ہے۔ اس میں ۱۳ افسانے ہیں ۔ 'شناخت'، الماس نگر کے قیدی جنگل کا قانون بہاروں کی آہٹ ، اجڑ تا درخت فطرت زدہ جلتی دھوپ ٹھنڈی چھاؤں، 'موتی اگلتی سیپیاں ، سمجھوتے کا ہنر، اعلی نسل'، 'بڑے شہر کا باشی ، دلدل پڑوسی اس میں شامل افسانے ہیں۔

ارمان کسی کا چھٹا افسانوی مجموعہ ریشم کا جال ہیں۔ اس میں ریشم کا جال ، کوڑھ، 'آگہی جنم جلی، آنکھ مچولی تسمہ پا چیخ ، 'چمنکاری، چارہ گر ہجرت زدہ فرض شناس، نام سے 11 افسانے ہیں۔

ساتواں افسانوی مجموعہ ”کالی پری" میں "آسیب، ہر جائی نیا دور، مردذات، بوجھ، سنجوگ نجمه او نجمه، بنو خاله، وقت کے رنگ، دہکتی جنت، کالی پری جیسے 11 افسانے شامل ہیں۔

ارمان شمسی کا آٹھواں افسانوی مجموعہ " پر چھائیاں ہے۔ اس میں پر چھائیاں، جینے کی راہ، بوائے فرینڈ، احساس، دہلی کے بکرے، گدھ، جلا ہوا کارتوس، مزدور عورتیں، تارا، وارث نام سے ۱۰ افسانے ہیں۔

9واں افسانوی مجموعہ چاند نگر میں چاند نگر، ٹھنڈک، آدمی کا پلا، سن آف بنگلہ دیش، نروان، ' مسیحا، کڑواسچ، حسن کی گنگا تاریک جھروکے، گلابوں کے کھنڈر، بن باس، زنجیر رشتہ جیسے ۱۲ افسانے شامل ہیں۔

دسواں افسانوی مجموعہ "پرائی آنکھیں" میں "پرائی آنکھیں، شکاری، برہنہ بے کسی عہد ستم ختم ہوا، سپنوں کی راکھ، معصوم رسیا، گل بانو، سڑک کنارے حلالہ، وظیفہ جاری رہیں گا، نطفہ، جنوں کے سائے عنوان سے ۱۲ افسانے شامل ہیں۔

 

ارمان شمسی بنگلہ دیش میں مقیم ہیں۔ ان کی پیدائش ہندستان کے یو پی صوبہ کے بریلی ضلع میں قصبہ آنولہ میں ہوئی۔ تاریخ ولادت ۲۱ اگست ۱۹۴۳ء بروز ہفتہ ہے۔ والد کا نام منظور احمد اور والدہ کا نام نشا بیگم۔ ان کی پیدائش کے ڈھائی سال بعد ان کے والد کی وفات ہو گئی ۔ اس وقت سے بہت غربت میں زندگی بسر کرنی پڑی۔ ان کی امی نے تین بیٹیاں اور ر ارمان شمسی کو نہایت محنت و مشقت اور استقلال کے ساتھ پرورش کی۔ ارمان شمسی بہت ذہین ہونے کے باوجود تعلیمی سلسلہ کو آگے بڑھانے میں انہیں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ اپنی آپ بیتی میں لکھتے ہیں:

میں بچپن سے ہی حساس اور تیز تھا جو پڑھ لیا یاد ہو گیا۔ ہمیشہ فرسٹ آتا ، قصبہ آنولہ میں ایک ماسٹر تھے پریم شنکر ۔ ان کی سی انگلش پورے قصبے میں کسی کی نہ تھی، اردو و فاری و ہندی اور سنسکرت کے بھی ماہر تھے۔ مجھے گھر پر ٹیوشن پڑھانے آتے ۔ دس روپئے فیس تھی ۔ جبکہ اس وقت ایک سو دس روپے تولہ سونا تھا۔ میں خود دو دو روپئے مہینے کی ٹیوشن پڑھاتا اور اسکول سے آکر ایک کارخانہ کی چورن بھرنے کیلئے کاغذ کی نلکیاں بناتا جس کی مزدوری ایک آنانی سیکڑہ تھی۔ یوں شتم پشتم ماسٹر صاحب کی دس روپئے فیس کی ادائیگی ہو پاتی۔ پھر بہت جلد تھک گیا تو ماسٹر صاحب کو منع کر دیا مگر وہ کہاں ماننے والے تھے ۔ حکم ہوا تم جیسے لڑکوں کا پڑھنا بہت ضروری ہے۔ اب تم پڑھنے کے لئے میرے مکان پر آیا کرو۔ یہاں انہوں نے ایک کو چنگ اسکول قائم کر رکھا تھا۔ وہ میرے سپرد کر دیا اور میں چھوٹے بچوں کو پڑھانے لگا خود بھی پڑھتا۔ ان کے یہاں بی اے کے لڑکے پڑھا کرتے تھے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ورد میٹنگ اور ڈکٹیشن سب کا میرے ہی ذمہ تھا جب کہ میں خود انٹر میں تھا۔ میری محنت کے عوض ماسٹر صاحب نے میری فیس معاف کر دی ۔ ۴   

انٹر تک تو وہ یوپی میں پڑھ لیا تھا۔ بعد میں وہ غربت کے مارے کولکا تا آگیا۔ ایک دکان پر سیلز مین کی ملازمات شروع کی۔ وہ ملازمت کے ساتھ ساتھ پرائیوٹ امتحان میں شریک ہوتے رہے۔ جامعہ اردو علی گڑھ سے ادیب اور ادیب ماہر میں فرسٹ اور کامل میں سکنڈ ڈویژن سے پاس کیا۔ بی اے کا داخلہ لیا تو تھا لیکن ۱۹۶۴ میں کلکتہ میں فساد ہو گیا ، کالج کا مکان بھی جلا دیا گیا، ابتری پھیل گئی تو ہجرت کرنا پڑا اور سلسلہ تعلیم بھی بند ہو گیا۔

تنگ دستی کی وجہ سے دکان کی ملازمت کرنی پڑی۔ بڑی مشکل سے گھر کی اخراجات کا گزارہ ہوتا تھا۔ ان کی فیملی کی بری حالت کو اپنی افسانے "گلچین کا خمار میں اپنی بہن کی شادی کی بات کو افسانوی پیرایہ میں اظہار کرتے ہیں:

آپ تو قیامت آجائے گی جب بھی یہی کہیں گے کچھ نہیں ہوا ۔

جواب میں چندا میاں جھلا کر بولے ” یہ جو تم نے مہ پارہ کی بات طے کر رکھی ہے یہ لڑکا کون ساتھیں مارخاں ہے۔ جانتی ہو... اس کے چال چلن کے لیے جب پوری برادری نے اس کو نہیں پوچھا تو انھوں نے تمھارے گھر کا رخ کیا ہے اور اگر وقت پر جہیز وغیرہ کا مسئلہ اٹھ کھڑا ہوا تو کیا کروگی ہے کچھ پاس پلے ؟ عمر بھر بیٹیوں کو کولھے سے لگائے رکھنا یا ایک دن صبح اٹھ کر انہیں ملتے ملتے دیکھنا کہ وہ گھر سے بھاگ گئیں ۔ نفیسہ ابھی تو فاقے فقر سے کٹ رہی ہے لیکن ذرا آنے والے خوفناک دنوں کے بارے میں سوچو ؟ میں نے مانا تمھاری بیٹیاں خوبصورت ہیں، حسین ہیں لیکن میری بہن صورت کے ساتھ ساتھ لوگ کچھ اور بھی چاہتے ہیں جس میں مال دولت ، عزت، خاندان وغیرہ سب کچھ ہی شامل ہے۔ اس سماج میں غریب کی عزت ہی کیا ہے اور وہ بھی گھر گھر گھوم کر کپڑے سینے والی کی؟

چندا میاں نے جذبات میں بھر کر بیچ کا زہر ایک ہی سانس میں اگل دیا جیسے کوئی مینڈک زہریلے سانپ کا من گھبرا کر اگل دے اور اب روشنی ہی روشنی تھی جس سے نفیسہ بانو کی آنکھیں چندھیائی جا رہی تھیں۔ انھوں نے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ ڈھانپا اور گہری گہری سانسیں لینے لگیں۔

پھر چند میاں یہ کہتے ہوئے باہر چلے گئے۔ " تم اچھی طرح غور کر لو۔ میں کل آؤں گا۔“

دوسرے دن جب چندا میاں بہن کے گھر پہنچے تو نفیسہ بانو نہ سر لیٹے پڑی ہوئی تھیں ۔ مہ پارہ اور قمر آرا دونوں سینے پرونے کے کام میں مصروف تھیں ۔ بہن کو اٹھایا ۔ حال پوچھا تو معلوم ہوا آج صبح سے چولھا نہیں جلا ہے ۔ سب کو فاقہ ہے۔ دونوں لڑکیاں کام مکمل کر رہی ہیں پیسے آئیں گے تو چولھا چلے گا۔ چندا میاں الٹے قدموں واپس ہو گئے ۔ گھر سے کھانا لائے سب کو کھلایا۔ پھر بہن سے مخاطب ہوئے تم اپنا دل چھوٹا مت کرو، چھوڑو اس رشتے کی بات کو ۔ اپنا کام دھندا د یکھو ۔ اللہ مالک ہے، وہ جیسا چاہے گا وہی ہوگا ۔۵

 

ان کی مفلسی ایک دن ختم بھی ہوگئی تھی۔ تجارت میں ساڑھے بارہ فی صد شرکت بھی مل گئی۔ دو برس دکان میں پارٹنر رہے ۔ ۱۹۶۴ء میں ہندو مسلم فساد شروع ہوا تو وہ کولکاتا سے ڈھا کہ ہجرت کر کے چل آئے ۔ ڈھا کہ میں دو برس بہت بد حالی میں گزرے، کوئی ملازمت بھی نہ ملی ۔ آخر ایک تجارت کا بندوبست ہوا تھا۔ اس تجارت کی اورنچ پنچ اور ترقی اور تنزل کو بیان کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:

آخر اپنے ایک دیرینہ دوست سے کچھ رقم قرض لی اور ساڑھے تین سو روپئے میں ایک بند پڑا ہوا پلاسٹک کا سامان بنانے کا کارخانہ خریدا جس میں صرف دو ہینڈ مشینیں تھیں اور

 

295

تفصیل دیکھنے کے لئے پی ڈی ایف  پڑھیں۔

Back to Volume 7
Author(s)
Professor Dr. Mohammad Golam Rabbani
پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی
Professor
Department of Urdu
University of Dhaka
Bangladesh
Details
Type: Article
Volume: 7
Year: 2014
Pages: 290–313
Issue: ڈھاکہ یونیورسٹی جرنل آف اردو
Published: December 31, 2014
ISSN: ISSN 2957-4951
Publisher: Dhaka University Journal of Urdu
OPEN ACCESS
Cite this Article

Professor Dr. Mohammad Golam Rabbani (2014). Arman Shamsi and his Urdu Short Stories. Dhaka University Journal of Urdu, 7, 290–313. ISSN: ISSN 2957-4951.

Professor Dr. Mohammad Golam Rabbani. "Arman Shamsi and his Urdu Short Stories." Dhaka University Journal of Urdu, vol. 7, 2014, pp. 290–313, ISSN: ISSN 2957-4951.

Professor Dr. Mohammad Golam Rabbani. "Arman Shamsi and his Urdu Short Stories." Dhaka University Journal of Urdu 7 (2014): 290–313. ISSN: ISSN 2957-4951.

Similar Articles

محمد شفیق الحسن شہاب · Vol. 8
پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی · Vol. 11
پروفیسر ڈاکٹر محمد اسرافیل · Vol. 8
شعبۂ اُردو — ڈھاکہ یونیورسٹی
Department of Urdu, University of Dhaka

Faculty of Arts, Dhaka University, Dhaka-1000, Bangladesh.
Fostering excellence in Urdu language and literature since 1921.

Contact
  • Faculty of Arts, Dhaka University, Dhaka-1000
  • +880-2-9661920 (Ext. XXX)
  • urdu@du.ac.bd
  • urdu.du.ac.bd
  • Sun–Thu: 9:00 AM – 5:00 PM
Quick Links