urdu@du.ac.bd +880-2-9661920 Faculty of Arts, University of Dhaka
شعبۂ اُردو — ڈھاکہ یونیورسٹی
Department of Urdu
University of Dhaka | Faculty of Arts | Est. 1921

سوشل میڈیا پر بنگلہ دیشی اردو شاعروں کی سرگرمیاں

Read Online Download PDF Download DOC
Statistics
931
Visits
90
Reads
114
Downloads
Visit(s) Read(s) Download(s)
0 252 503 May-2026 Jun-2026 Jul-2026 Aug-2026 — Visits: 503 Aug-2026 — Reads: 74 Aug-2026 — Downloads: 72 Aug-2026 Sep-2026 — Visits: 368 Sep-2026 — Reads: 10 Sep-2026 — Downloads: 30 Sep-2026 Oct-2026 — Visits: 60 Oct-2026 — Reads: 6 Oct-2026 — Downloads: 12 Oct-2026
Table view
MonthVisitsReadsDownloads
May-2026000
Jun-2026000
Jul-2026000
Aug-20265037472
Sep-20263681030
Oct-202660612
Author(s)
Professor Dr. Mohammad Golam Rabbani
پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی
Professor
Department of Urdu
University of Dhaka
Bangladesh

Activities of Bangladeshi Urdu Poets on Social Media

Keywords
Abstract
Activities of Bangladeshi Urdu Poets on Social Media Urdu poetry has been practiced in Bangladesh since 1782. There are more than three hundred Urdu poets in Bangladesh. Although the practice of Urdu poetry has decreased at present, the practice of Urdu poetry is still going on in Bangladesh through Facebook and YouTube. Ahmed Ilias, Shamim Zamanavi, Haikel Hashmi, Mahiuddin Hamdam, Majid Iqbal, Salam Hamid, Ashraful Haque Babu etc. have presented poetry on social media especially during and after Covid 19. About them and their Urdu poetry are discussed in this article. ISSN: 2957-4951
Full Article

سوشل میڈیا پر بنگلہ دیشی اردو شاعروں کی سرگرمیاں

پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی

شعبۂ اردو، ڈھاکہ یونیورسٹی،بنگلہ دیش

 

ڈھاکہ یونیورسٹی جرنل آف اردو

شمارہ : ۱۱، سال ِ اشاعت: جون  ۲۰۲۲

ISSN: 2957-4951

 

Abstract

Activities of Bangladeshi Urdu Poets on Social Media

Urdu poetry has been practiced in Bangladesh since 1782. There are more than three hundred Urdu poets in Bangladesh. Although the practice of Urdu poetry has decreased at present, the practice of Urdu poetry is still going on in Bangladesh through Facebook and YouTube. Ahmed Ilias, Shamim Zamanavi, Haikel Hashmi, Mahiuddin Hamdam, Majid Iqbal, Salam Hamid, Ashraful Haque Babu etc. have presented poetry on social media especially during and after covid 19. About them and their Urdu poetry are discussed in this article.


Key Words: Urdu Poet,  Bangladesh, Social Media,  Ilias, Shamim Zamanavi, Facebook, YouTube

 

بنگلہ دیش میں اردو کی صورتحال اب کافی بدل چکا ہے۔ اس وقت بنگلہ دیش کی ڈھاکہ یونیورسٹی میں ۴۰۰   اور راجشاہی  یونیورسٹی میں تقریباً  ۲۵۰  طلبہ   اردو میں بی اے آنرز، ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کر رہیں ہیں۔ ڈھاکہ یونیورسٹی سے '' ڈھاکہ یونیورسٹی جرنل آف اردو '' شایع ہو رہا ہے۔ اردو مجلہ ''شاہکار''  بھی کبھی کبھی منظر عام پرآ جاتا ہے۔  اردو مشاعرہ بھی کافی انعقاد ہو رہے ہیں۔ڈھاکہ یونیورسٹی میں ۲۰۲۰ کے جنوری میں ایک عالمی مشاعرہ کا انعقاد ہوا تھا۔ اس میں گیارہ ملک سے اردو شاعروں نے  اپنی شاعری پیش کیں۔ ۲۰۱۹  میں بھی ڈھاکہ یونیورسٹی میں ایک قومی مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا تھا۔ ۲۰۱۴  میں بھی ڈھاکہ یونیورسٹی کے زیر اہتمام ایک شاندار انٹرنشنل مشاعرہ کا انعقاد ہوا، جہاں مختلف ملک سے مختلف زبانوں کے شاعروں نے  اپنی شاعری پیش کیں۔ ۱

 

بنگلہ دیش کے سید پور، میر پور، محمدپور، چاٹگام، دھانمنڈی وغیرہ میں مشاعرہ کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش کے اردو شاعروں اور ادباء نے  مختلف سوشل میڈیا  میں اپنے تحریریں  پیش کی ہیں اور شاعری بھی  پوسٹ کر کی ہیں۔ مختلف آن لائن مشاعرہ میں بھی اپنی شاعری سنا کے سامعین کو محظوظ فرمائے ہیں۔ 

بنگلہ دیشی اردو شاعر شمیم زمانوی، احمد الیاس،صابر علی صابر، افضل حسین، جلال عظیم آبادی،ہیکل ہاشمی، سلام حمید، ماجد اقبال وغیرہ کرونا کے دور میں سوشل میڈیا میں اردو شاعری کو لیکر بہت مصروف رہیں۔

۹  اگست  ۲۰۲۰  میں ہند- بنگلہ دیش مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا  Channel True  پر۔ اس میں  بنگلہ دیش سے جلال عظیم آبادی مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک تھے۔ ان کے علاوہ سلام حمیدی، صابر علی صابر، ماجد اقبال وغیرہ نے اپنی اپنی شاعری پیش کی۔ اس میں ہندوستان سے شریک ہوئے تھے جناب خمار دہلوی،محترمہ ریحانہ شاہین، محترمہ ترنم نشاط،جناب عبد الجبار شارب اور ایڈوکیٹ جناب زبیر انصاری۔

 اس مشاعرہ کے صدر تھے پروفیسر غضنفر۔ اور تھیں محترمہ مینا خان، (مہمانِ ذی وقار)، جناب اعجاز انصاری (پیٹرون فاؤنڈیشن)، جناب حامد علی اختر (ناظم مشاعرہ)۔  یہ مشاعرہ  رات 8 بجے سے 11 بجے تک جاری رہا۔ 

مشاعرہ کے بعد اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے سلام حمید فیس بک میں لکھتے ہیں:

اب تک...  انڈ و پاک مشاعرے  اور عالمی مشاعرے تو بہت منعقد ہوئے لیکن ہند-بنگلہ دیش مشاعرہ پہلا تاریخی مشاعرہ تھا۔ جس کا سہرہ امروہہ فاؤنڈیشن کے سرپرست اعجاز انصاری صاحب کے سر ہے۔ اس مشاعرے میں مجھے ایک اہم اور غیر معمولی پہلو نظر آیا۔

تاریخ ساز ایک لمحہ...جس کے بعد بنگلہ دیشی قلم کاروں نے چپی سادھ لی تھی۔ ان کے قلم کو زنگ کھا گیا اور ان کے کاغذ!!!...... وہ تو سرے سے ناپید ہیں

ان دنوں فیس بک کی توسط سے دوچار بچے کچے سینیر شعرا پھر ایکبار فعال ہوئے۔ نئی نسل سے دوچار ابھر آئے اورفیس بک کے توسط سے ہی یہ جانے پہچانے گئے۔

فیس بک پر یوں تو بہت سارے گروپز ہیں، پلیٹ فارمز ہیں، کرونا کے پیش نظر Distancing کا بھی مسئلہ ہے۔ اس لئے آجکل مشاعرے آن لائن منعقد کیئے جا رہے ہیں۔ آئے دن کسی نہ کسی پلیٹ فارم سے کوئی نہ کوئی پروگرام مرتب ہورہا ہے۔ بنگلہ دیشی شعرا ادبا بھی مدعو کیئے جارہے ہیں۔ داعیان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

امروہہ فاؤنڈیش کے بینر تلے منعقد ہند- بنگلہ دیش مشاعرہ اپنے نام سے ہی الگ اہمیت کا حامل ہے۔ امروہہ فاؤنڈیشن کے پیٹرون جناب اعجاز انصاری اور صدرِ فاؤنڈیشن فرمان حیدر نے بنگلہ دیش کو اونچا مقام عطا کیا- یہ مشاعرہ دو ممالک کے باہمی روابط، مساوات اور بھائی چارے کی عمدہ مثال تھا۔

ہرچند کہ بنگلہ دیش کے صفِ اول کے شعرا کی عدم موجودگی غور طلب ہے تاہم بنگلہ دیش کی جانب سے ان کی فراخدلی اور بھائی چارگی کے جذبے کو سلام کرتا ہوں۔ انہوں نے بنگلہ دیشی شعرا کو جو شرفِ اعزاز بخشا ہے، میں ان کی نہ صرف قدر کرتا ہوں بلکہ ان کی محبتوں کا مقروض بھی ہوں۔۲

 

اس مشاعرے کے قبل ۸ اگست ۲۰۲۰  میں  برلن میں ایک عالمی مشاعرہ کا انتظام کیا گیا۔ جس میں بنگلہ دیش سے شمیم زمانوی نے  صدارت کی۔ اس میں بنگلہ دیشی شاعروں میں سے جلال عظیم آبادی، صابر علی صابر، سلام حمیدی وغیرہ   نے اس مشاعرہ کو رونق بخشا۔ آن لائن پر اس مشاعرہ میں  مختلف ممالک سے شاعروں نے  اپنی اپنی شاعری پیش کی۔

 ۲۳  ا گست  ۲۰۲۰  میں اور ایک مشاعرہ میں سلام حمیدی نے بنگلہ دیش کی نیابت کی۔ اس میں ذیل کی نظم بھی سامعین کی خدمت میں پیش کی گئی ہے۔

بنگلہ دیشی معروف اردو  شاعر جلال عظیم آبادی کی پیدائش ڈھاکے میں ۷  فروری   ۱۹۵۲ میں ہوئی۔ ان کا  اصل نام سید جلال الدین احمد۔ ابتدائی تعلیم مدرسے سے شروع کی۔  بی ایس سی (آنرز) تک تعلیم حاصل کی۔ ان کی ذاتی تجارت تھی۔  ایک طویل عرصہ تک انہوں نے جاپان میں گزارا۔  وہ امریکہ میں کافی معروف تھے۔  وہ  دسمبر    ۲۰۱۸  میں  امریکہ کے مختلف آٹھ  سٹیٹ میں بہ ایک وقت مشاعرے میں مدعو ہوئے تھے۔ سعودی عرب کے ایک مشاعرہ میں اپنی شاعری پیش کی۔  ۲۰۱۰ اور ۲۰۱۱ میں وہ پاکستان کی کراچی کے مشاعرے میں مدعو ہو کر حصہ لیا تھا۔  انڈیا  کے کولکاتا، پٹنہ، جمشیدپور، حیدرآباد، کشمیر، بنگلور کے مشاعرے میں وہ بنگلہ دیش کی نمائندگی کی۔۳

 

ان کی شاعری کا مجموعہ '' کہکشاں ''  ۲۰۰۴  میں شایع ہو ا۔  ۲۰۱۸ تک چار مرتبہ شایع ہوا۔  وہ اپنی تجارت میں مصروف ہونے کے باوجود وقت نکال کر مشاعرے میں ضرور شریک رہتے تھے۔  کچھ دن پہلے  ۲۰۲۱کے  ۱۰  جلائی میں وہ دار فانی سے رحلت فرمائی ہے۔

وہ  ۲۰۰۴ سے    ’ادب‘ نامی ایک مجلہ  جاری کیا۔ وہ اس کا مدیر تھے۔  یہ مجلہ ۲۰۱۲ تک کبھی کبھی شایع ہوتا تھا۔ ان کی ایک غزل ملاحظہ ہو:

 پل بھر کی ملاقات ملاقات نہیں ہے

کھل کے نہ برس جائے تو برسات نہیں ہے

وہ رات کہ ساری جو گلے شکوے میں گذری

اس رات سے بہتر کوئی اب رات نہیں ہے

کچھ تم بھی بڑھو  ہم بھی بڑھیں بات بنے گی

بس ہم ہی بنا ہیں یہ مساوات نہیں ہے۴

انہوں نے آن لائن پر ۲۶ فروری ۲۰۲۱ میں حضرت علی مرتضیٰ پر منقبت پیش کی ہے۔ ۱۴    اپریل ۲۰۲۰ میں وہ فیس بک پر ان کا نظم بیساکھ شایع کیا۔  ان کا ایک نظم پتھر سے کچھ اشعارملاحظہ ہو

پتھر

عروج یہ ہے کہ بھگوان بن کے بیٹھا ہے

تمام شکتی کا عنوان بن کے بیٹھا  ہے

بجز  تو خاک ہے پر کیا ہے آن بان تری

ہر اک مراد کا  فرمان بن کے بیٹھا  ہے

یہ انکساری کہ راہوں میں بکھرا رہتا ہے

ہزاروں پاؤں کی ٹھوکر میں پلتا رہتا ہے

کہیں بلند ہے اتنا کہ کوئی چھو نہ سکے

گراں ہے  اتنا کہ انمول دام بکتا ہے۔ ۵

جلال عظیم آبادی بنگلہ دیش کے نمائندہ کی حیثیت سے کئے آن لائن مشاعرہ میں شریک ہوئے تھے، کبھی صدارت کی، کبھی مہمان خصوصی اور کبھی فقط شاعر۔  جلال عظیم آبادی نے  ۱۲  دسمبر ۲۰۲۰  میں بزم صدف انٹرنشنل کویت شاخ کی افتتاح اور عالمی مشاعرہ میں صدارت کی۔

۱۰  اکتوبر ۲۰۲۰کے آن لائی  ہند۔بنگلہ دیش مشاعرہ میں وہ مہمانِ خصوصی رہے۔۹  اگست ۲۰۲۰ کے اور آن لائی  ہند۔بنگلہ دیش مشاعرہ میں بھی  وہ مہمانِ خصوصی رہے۔ ۱۸ ستمبر ۲۰۲۰  کے ایک آن لائن  محفل سخن میں وہ مہمان رہے تھے۔ ۵ مارچ ۲۰۱۹  میں ڈھاکہ یونیورسٹی میں ایک قومی مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا، اس میں انہوں نے شاعری پیش کی۔  ۲۷ جنوری ۲۰۲۰  میں بھی ڈھاکہ یونیورسٹی کے عالمی مشاعرہ میں وہ مجلس صدارت میں شامل تھے۔

 

احمد الیاس

احمد الیاس بنگلہ دیشی  ایک مشہور  اردوشاعر ہیں۔ جو حال ہی میں وفات پائی۔  احمد الیاس کا قلم  ہمہ وقت چلتا رہا۔ وہ انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں لکھتے تھے۔ بنگلہ زبان میں بھی لکھے ہیں۔'' بنگلہ دیش میں اردو ادب ''  ان کی مشہور کتاب ہے۔  ان کی ذاتی شاعری پرچھ کتابیں منظر عام پر آئیں ہیں،۔۱۔ آئینہ ریزے( ۱۹۸۹)،  ۲۔ حرف دریدہ (۲۰۱۰)،  ۳۔ عذابِ آگہی (۲۰۱۳)   ۴۔  زخم شاخِ ہجر کا (۲۰۱۴)   ۵۔ محاذِ شب (۲۰۱۵)،  ۶۔ شکست و ریخت (۲۰۱۷) شایع ہوئی ہیں۔

احمد الیاس کولکاتا میں ۲۶ جنوری ۱۹۳۴ میں پیدا ہوئی ہے۔  کولکاتا عالیہ مدرسہ میں درجہ ہشتم تک پڑھا۔  بعد میں اسلامیہ ہائی اسکول میں داخلہ لیا تھا لیکن ڈھاکہ آ جانے کی وجہ سے مٹریک پاس کرنا ممکن نہ ہوا۔  پھر ڈحاکہ سے ۸۵۹۱  میں پراؤٹ مٹریک پاس کیا۔  قائد اعظم کالج(سہراوردی کالج) ڈھاکہ سے آئی اے پاس کیا۔ جیولوجیکل سروے آف پاکستان میں سرویر کی حیثیت سے ۱۹۵۹ سے ۱۹۶۱ تک ملازمت کی۔ ڈھاکہ پریس کلب میں مینجر  رہے ۱۹۶۴  تک۔  پھر ۱۹۶۴سے ۱۹۷۱  تک صحافی کی حیثیت سے پہلے ’پاسبان‘ میں ذمہداری ادا کی۔ بعد  میں ’روداد‘، ’جریدہ‘  ’آزاد‘،’لیل  و نہار‘  اور ’وطن‘  میں صحافی کی ذمہ داری نبھائی۔   ۱۹۷۵سے ۱۹۸۴تک’ہید بنگلہ دیش‘کے سربراہ منصوبہ کاری رہے۔  ۱۹۸۵سے تا حیات’الفلاح بنگلہ دیش‘ کے ڈائرکٹر رہے۔  وہ ۷جولائی ۲۰۲۳ میں ڈھاکہ میں وفات پائی۔ آخری عمر میں وہ ڈھاکہ کے اترا میں  اپنی بیٹی کے پاس مقیم تھے۔۶

 فیس بک پر ان کی شاعری ہمیں  ہر روز نظر آتی ہے۔ ۱۴ ستمبر ۲۰۲۰  میں فیس بک پر انہوں نے پوسٹ کی ہے نظم’مستقبل‘۔  جو آپ لوگوں کی خدمت میں حاضر ہے:

مستقبل

دیکھوگے مناظرتم بھی بہت

کوچوں میں اوربازاروں میں

چھُپ جائیں گی شام کی کرنیں جب

سورج کی طرح اندھیروں میں

تم روشنی دیکھنے پاؤگے

آنکھوں میں اور رُخساروں میں

اور روشنی کے سایوں کے تلے

جب خوابوں کی قندیل جلے

پھر جینا تم بھی چا ہوگے

اور اپنے دریدہ دامن کو

پھر سینا تم بھی چاہوگے

اور میری طرح زہر ہستی

پھر پینا تم بھی چاہو گے

(احمدالیاس،  ۱۴ ستمبر ۲۰۲۰)۷

وہ مسدس کو تین شعر کے  نام سے کبھی کبھی پیش کرتے ہیں۔  ۲۲  اگست ۲۰۲۰  انہوں نے  اپنی فیس بک آئی ڈی Ahmed Ilias   پر ایک تین شعر  پوسٹ کیا تھا۔ وہ بھی ملاحظہ ہو:

تین شعر

اپنی آنکھوں سے لہو دل کا بہاتے ہی رہے

پھول اُس کے لب و عارض پہ کھلاتے ہی رہے

اپنی تہذیب کا مقتل میں بھی سودا نہ کیا

اپنے قاتل سے بھی ہم ہاتھ ملاتے ہی رہے

بجھ گئی ایک تو پھر دوسری روشن کرلی

شام تا صبح یونہی شمع جلاتے ہی رہے۔۸

(احمد الیاس، 22.08.2020)

 

  وہ  ۲۳    اگست ۲۰۲۰  میں ' مال غنیمت'   نامی ایک نظم میں اپنے  دکھ کا  اظہار  اس طرح کرتے ہیں:

مال غنیمت

اُس طرف اک پیڑ تھا،اور شاخ تھی اور تھے ثمر

بٹ گئے ہیں سب کے سب

مال غنیمت کی طرح

اب کہاں جائے مسافر ڈھونڈنے

دھوپ میں پائے کوئی اب پیڑ کا سایہ کہاں

اب کہاں ڈھونڈے پرندہ

شاخ پر اُس کا نشیمن ہے کہاں

اور بچًے پیڑ سے توڑیں کہاں جاکر ثمر

کوئی بتلاتا نہیں

سب کے سب ہیں بے خبر۔  ۹

(احمد الیاس،  23.8.2020)

 

 شمیم زمانوی

بنگلہ دیشی اردو شاعروں کا مرکز ہیں شمیم زمانوی۔  ان کی پیدائش یو پی کے قصبہ زمانیہ میں ۱۵ دسمبر ۱۹۵۰ میں ہوئی ہے۔۱۰    وہ فی الحال ڈھاکہ کے محمدپور میں الفلاح بنگلہ دیش میں زیادہ وقت دیتے ہیں۔ اور پورے بنگلہ دیش میں اردو زبان و ادب کی ترقی کی فکر کرتے ہیں۔ اس الفلاح  بنگلہ دیش کے ما تحت  ۲۰    اسکول جاری ہیں۔ شمیم زمانوی گزشتہ دس سال سے فیس بک،  وائٹس ایپ وغیرہ میں اردو شاعری کو ترویج دینے میں کوشاں ہیں۔ وہ ایک زندہ دل آدمی ہیں۔ ہر دل عزیز ہیں۔  جہاں بھی مشاعرہ ہو اس میں صدارت یا تو  نظامت کا ذمہ داری ادا کرتے ہیں۔ فیس بک پر مختلف  پئز(Page) بھی ان کی زیر نگرانی چلتا ہے۔ 'فیس بک ٹائمز انٹرنیشنل'  نامی  ایک پئز پر ان کی سرگرمیاں کافی قابل ستائش ہیں۔   ٹائمز  پر  ۱۴  جون ۲۰۱۸  کی ایک شاعری ملاحظہ ہو:

جسمانی مرض ہو کہ وہ  روحانی مرض ہو

ہر روگ کی قرآں میں دوا  سب سے الگ ہے

اوصاف مسیحائی ہے  ہر لفظ میں اس کے

ہر طور جدا  اور شفا  سب سے الگ ہے

 

'صبا آداب کہتی ہے'  نامی اور ایک پئز پر ۲۳   اگست ان کا اور ایک غزل شایع ہوا ہے۔ جس کا مطلع ہے

جہاں بھی تیرا شناسا  دیکھائی دیتا ہے

وہ اپنی ذات میں یکتا دکھائی دیتا ہے

نہ جانے کیسے بڑھی بات دار تک پہنچی

فقیہہِ شہر تو بینا دکھائی دیتا ہے

میں آئینے پہ بھروسہ کبھی نہیں کرتا

کہ اس میں عکس بھی الٹا دکھائی دیتا ہے

ذرا مریض کی آنکھوں میں جھانک کر  دیکھو

سحر کا ڈوبتا تارا  دکھائی دیتا ہے

نقیبِ صبح کو نیند آگئی تو کیا ہوگا

افق کی تہہ میں اجالا  د کھائی دیتا ہے

جسے زمانہ سمجھتا ہے نیر اعظم

کسی کے حسن کا سایہ دکھائی دیتا ہے

سجا کے غیر کی دستار سر پہ آج شمیم

وہ اپنے قد سے بھیاونچا دکھائی دیتا ہے۔ ۱۱

[Ameen Jaspuri 23 Aug 2020]

'ادبی دنیا اردو شاعری'  نامی اور ایک فیش بک پئیز پر اور ایک طرحی مشاعرہ  میں شایع شدہ شمیم زمانوی کی شاعری بھی ملاحظہ ہو سکتی ہے۔

دوسروں کو یہ لبھانے کیلئے ہوتی ہے

ہر اد ا  اس کی دکھانے کیلئے ہوتی ہے

اس نئے دور کی ہر بات نرالی دیکھی

اب حقیقت بھی فسانے کیلئے ہوتی ہے

طشت از بام کرو گے تو خیانت ہوگی

راز کی بات چھپانے کیلئے ہوتی ہے

ہو وہ چھوٹی کہ بڑی اسمیں نہ تفریق کرو

ہر خوشی صرف منانے کیلئے ہوتی ہے

صرف نفرت کی جو بنیاد پہ استادہ ہو

ایسی دیوار گرانے کے لئے ہوتی ہے

کاش انسان ذرا غور کرے مقصد پر

۔۔۔ زندگی سب کی نبھانے کیلئے ہوتی ہے

. جتنا ممکن ہو شمیم آپ بڑھائیں الفت

صرف نفرت ہی مٹانے کیلئے ہوتی ہے.۱۲

]شمیم زمانوی۔23۔08۔2018[

 

 اسی طرح  حریم سخن، عشق نگر، انحراف، بزم عالی انٹرنشنل،سائبان، قوس قزح ادبی فورم وغیرہ پر بھی ان کی شاعری شایع ہوتی رہتی ہے۔

 ان کی ایک نظم ''زبان''  پیش خدمت ہیں:

زبان

زمین کیاہے مِرا آسمان بھی لے لو

مِرا غرور مِری آن بان بھی لے لو

اگر ہے جاں کی ضرورت تو جان بھی لے لو

مِرے غموں کو نچوڑو خوشی بھی لے جاؤ

مِرا شعور مِری آگہی بھی لے جاؤ

اندھیرے دے کے مجھے روشنی بھی لے جاؤ

اگر میں اُف بھی کروں دار پر چڑھا دینا

فلک بھی دے نہ سکا جو، مجھے سزا دینا

مجھے بھی حرفِ غلط کی طرح مٹا دینا

میں اپنے دل کا قرار و سکون دیدونگا

خرد کی قید میں اپنا جنون دیدونگا

ہوس کی پیاس بجھانے کو خون دیدونگا

مگر خیال رہے۔۔۔۔۔۔

ہر ایک شئے میری لے لو زبان مت چھینو

مِری زباں مِری تہذیب کی امانت ہے

مِری زباں مِرے اجداد کی وراثت ہے

مِری زبان مِری قومیت کی ہے پہچان۔۱۳

 

ان کی اور ایک نظم بنگلہ دیش کی تاریخ پر لکھی ہے۔ انہوں نے  ہر سطر میں ایک ایک تاریخی واقعہ کو بیان کیا۔ اس میں دریا کو کوزے میں بھر دیا۔ کنایہ کی حیثیت سب لکھا۔۱۹۵۲ کے تحریک زبان، ۱۹۷۱  کے جنگِ آزادی، ۱۹۷۵   میں  بنگوبندھو کا قتل وہ بھی یہاں قابل ذکر ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

 

تاریخ کے آئینے میں

باون لہو لہو ہے اکہتر لہو لہو

تاریخ ہے گواہ پچھتّر لہو لہو

انسانیت کے سیکڑوں پیکر لہولہو

کتنے ہی آئینوں کے مقدر لہو لہو

                        گنگا کی موج مل گئی موجِ فرات سے

                        منظر لہو لہو پسِ منظر لہو لہو

تدبیر کام کر گئی تقدیر رو پڑی

اور قہقہوں کی گونج میں زنجیر رو پڑی

اشکوں سے خوں کے ہاتھ کی شمشیر رو پڑی

اک جرمِ بے گناہی پہ تقصیر رو پڑی

                        بکھری ہے داستانِ الم ہر طرف یہاں

                        مدفون ہیں زمین میں خنجر لہو لہو

نیرنگئی سیاستِ دوراں کو دیکھ کر

مکروفریب کے نئے طوفاں کو دیکھ کر

بحرِہوس میں ڈوبتے انساں کو دیکھ کر

انسانیت کے چاک گریباں کو دیکھ کر

                        نم دیدہ آسمان ہے ششدر زمین بھی

                        ہر اک زبان و نطق کا تیور لہولہو

کوئی خزاں رسیدہ بہاروں کا کیا کرے

جھلسے ہوئے چمن کے نظاروں کا کیا کرے

مردہ زمیں کے چاند ستاروں کا کیا کرے

خوئے وفا سے عاری وہ یاروں کا کیا کرے

                        اہلِ خرد یہ بات بھی کیوں سوچتے نہیں

                        گل جسم پر کھلا کے ہے پتھر لہو لہو

لکھی ہے جب بھی وقت نے تاریخِ خونچکاں

اٹھا ہے لفظ لفظ کے پیکر سے اک دھوں

محور پہ کانپ اٹھی ہے زمیں اپنے بے گماں

رویا کیا ہے خون کے اشکوں سے آسماں

                        چبھنے لگی ہے آنکھ میں بینائی بھی شمیمؔ

                        پڑھ کر یہ داستانِ مکرر لہولہو۔۱۴

]شمیم زمانوی۱۴     اگست ۲۰۱۶[

ابھی تک شمیم زمانوی کی  شاعری کا کوئی مجموعہ شایع نہیں ہوا ہے۔  لیکن انہوں نے کئی کتابیں مرتب کیا۔انہوں نے نوشاد نوری کے دوسرے شعری مجموعہ”روزنِ دیوار“ مرتب کیا ہے۔ بنگلہ زبان سے اردو میں دو کتابوں کا ترجمہ کیا۔ ۱۔سلطانہ فیض النہار کی ”میں بہت تنہا ہوں“(۱۹۹۹)  اور  ۲۔ سید فیاض حسین کی ”پیاسی روح(۲۰۱۰)۔ بہت جلد ایک مجموعہ''فاصلوں کی قربت''  نام سے شایع ہونیوالا ہے۔۱۵

 

محی الدین ہمدم

محی الدین  ہمدم  چپ چاپ اردو  شاعری پر کام کر رہے ہیں۔ نوکری کی مصروفیت کے باوجود وہ فیس بک پر بہت تزین کے ساتھ اپنی شاعری کو پیش کرتے ہیں۔ مشاعرے میں شریک ہوتے ہیں۔ نظم یا غزل اپنے انداز سے پیش کرتے ہیں۔

 محی الدین ہمدم کا اصل نام شیخ محی الدین احمدہے۔والد کا نام شیخ معین الدین ہے۔ ان کے والدین تقسیمِ ہند کے بعد ۰۵۹۱ میں ہندوستان سے ہجرت کر کے  ڈھاکہ چلے آئے اور یہیں آباد ہو گئے۔ہمدم کی پیدائش ۱۶    جُون۱۹۵۶  کو ڈھاکے میں ہوئی۔آبائی وطن ضلع غازی پُور، ریاست اُتّر پردیس، بھارت ہے۔ ہمدم O Level  تک تعلیم حاصل کی۔ ہمدم ۱۹۷۲   سے احمد حسین آرمس کمپنی میں ملازمت کر رہے ہیں۔  ان کی شاعری  اپنی والدہ مرحومہ زلیخا بیگم کی تربیت کا نتیجہ ہے۔  ان کا زیادہ تر کلام ''اخبار مشرق'' کولکاتا میں چھپا ہے۔ اِس کے علاوہ اردو مرکز نیویارک سے شائع ہونے والاسہ ماہی عالمی جریدہ'' ورثہ'' اور دوسرے رسائل میں وقتاً فوقتاً   شائع ہوتے رہتے ہیں۔۱۶

 

 ان کی فیس بک پر  ۷   اگست ۲۰۲۰   میں ایک شعر  پوسٹ کیا ہے اس کو دکھیں:

تڑپ اک ماں کی پہنچی عرش پر ایسے قرینے سے

نکل آیا ہی زمزم آخرش صحرا کے سینے سے

(محی الدین ہمدم، 07۔08۔2020)

 

 ان کی ایک غزل بھی یہاں ملاحظہ ہو سکتی ہے۔

  غزل

عمر رفتہ کے مہ و سال پہ رونا آیا

بخت خفتہ کے بُرے حال پہ رونا آیا

غمزدہ چہرہ تِرا دیکھا سدا ہے ہم نے

زندگی! تیرے خد و خال پہ رونا آیا

مال و دولت پہ ہمیں فخر تھا کتنا اپنے

موت آئی تو زر و مال پہ رونا آیا

اُس کی رحمت نے بچایا ہمیں بیشک،لیکن

ہمیں خود اپنے ہی اعمال پہ رونا آیا

بات تک رکھتے ہیں محدود جو نیکی اپنی

ایسے اصحاب کے اقوال پہ رونا آیا

دُکھ پہ اوروں کے تجھے دیکھ کے روتا،

 مجھ کوہمدمِ خستہ تِرے حال پہ رونا آیا

                            - محی الدین ہمدمؔ۔ بنگلہ دیش

 

ان کی اور ایک نظم فیس بک سے  ماخوذ ہے۔

تضادِ زندگی

کہیں نازوں میں پلتی ہے کہیں شعلوں میں جلتی ہے

کہیں مسند پہ بیٹھی ہے کہیں مِٹّی میں مِلتی ہے

کہیں محو خراماں ہوتی پھولوں کے تختے پر

کہیں پا برہنہ ہو کر یہ کانٹوں پر بھی چلتی ہے

کہیں سو جاتی ہے رستے پہ یہ بے آبرو ہو کر

کہیں کمخواب کے بستر پہ یہ کروٹ بدلتی ہے

کہیں پر سوکھے پتّوں کی طرح بکھری ہے میداں میں

کہیں گل بن کے گلشن میں یہ شاخوں پر بھی کھِلتی ہے

کہیں فاقہ زدہ چہروں پہ بنتی ہے یہ رنج و غم

کہیں پر رزق یہ پاؤں تلے اپنے مسلتی ہے

کہیں پر درد سے بے تاب ہوتی ہے غریبوں میں

کہیں پر قہقہوں کے بیچ شوخی سے مچلتی ہے

تضادوں سے بھری اِس زندگی کو کیا کہیں ہمدمؔ

تلوّن اِس کی فطرت ہے یہ ہر سانچے میں ڈھلتی ہے۔ ۱۷

                       -محی الدین ہمدمؔ۔ بنگلہ دیش

 

ماجد اقبال

سید ماجد اقبال، سید پور، نلفاماری کے رہنے والے ہیں۔ بنگلہ دیش میں سب سے زیادہ اردو سیدپور میں بولی جاتی ہے۔ ماجد اقبال کی یومِ پیدائش  ۲۳ جولائی ۱۹۷۱  اور جائے پیدائش پرانا بابو پاڑا سید پور،ضلع نلفاماری بنگلہ دیش۔  انہوں نے مسلم ہائی سکول سید پور  سے ایس ایس سی پاس کیا ہے۔ ۱۹۹۲ سے شاعری کرتے ہیں۔ نظم،غزل، نعت، حمد باری تعالی، مرسیہ مختلف انواع میں انہوں نے شاعری کی ہے۔ وہ  مضمون نگاربھی ہیں۔ وہ ارباب سخن سید پور،  بزم اقبال سید پور اور بنگلہ اردو ساہتیہ فاؤنڈیشن ڈھاکہ سے منسلک ہے۔  سہ ماہی ترجمان، سہ ماہی پیغام سید پور کے نائب مدیر بھی ہیں۔

 

ماجد اقبال بھی آجکل الکٹرونک اور سوشل میڈیا میں بہت مصروف ہیں۔ آن لائن مشاعرے میں بھی شریک ہوتے ہیں۔ فیس بک پر بھی اپنی شاعری پیش کرتے ہیں۔ ۲۰۲۰ میں انہوں نے تازہ موضوع کرونا پر ایک نظم پیش کی ہے۔ جو ملاحظہ ہو:

اف! کرونا نے یہ کیسا خوف طاری کر دیا

خون کے رشتہ پہ جاری،اس نے آری کر دیا

 فقر و فاقہ میں جنہیں اپنی انا  کا  پاس تھا

اس وبائی وقت نے ان کو بھکاری کر دیا۔۱۸

اس کی ایک غزل بھی حاضر خدمت ہے۔ وہ ہماری سماجی، سیاسی حالت کو مد نظر رکھتے ہوئے اور لوگوں کی اخلاقیت کو طنز کرتے ہو لکھتے ہیں:

اس کے آنے سے تو ذرہ بھی گہر لگتا ہ              وہ چلا جائے تو گھر بار کھنڈر لگتا ہے

وہ اگر پھوٹ کے رو دے تو قیامت برپا         اسکی خاموشی سے طوفان کو ڈر لگتا ہے

جھوٹ مکاری اداکاری و عیاری سبھی         اک سیاست کے لئے کیا کیا ہنر لگتا ہے

اجلی اجلی جو نظر آتی ہے کالی دنیا              سوئے جذبات کا میرے یہ اثر لگتا ہے

 ایسا  سچّاء کا خنجر ہے لگا جسکے گلے        اس کے کاندھے سے اترتا ہوا سر لگتا ہے۔۱۹

(ماجد اقبال،  سیدپور، بنگلہ دیش)

 

سید پور سے ریاض رفیق، نصیر الدین فہمی، اکبر حسین عامی، حسنین راز وغیرہ بھی شاعری کرتے ہیں۔ حسنین راز کے ایک ہیکو ملاحظہ ہو:

ہیکو....

جگتے جگتے سو کر

پچھتایا پھر میں نے

سب کچھ اپنا کھو کر

(-حسنین راز، سیدپور، بنگلہ دیش)

 

 اشرف الحق بابو ساگر

سید پور کے اشرف الحق بابو ساگر بہت فعال آدمی ہیں۔ سیاست، سماج کی بہبودی کے لیئے  بہت وقت نکالتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ مشاعرے کا بھی رونق بڑھاتے ہیں۔  ۲۰۱۴ میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے زیر اہتمام  انٹرنشنل مشاعرے میں انہوں نے بہت ذمہ داری ادا کی تھی۔ ۲۰۱۹  کے قومی مشاعرے میں بھی ان کی قیادت میں سید پور سے شاعروں کا ایک گروہ ڈھاکہ حاضر ہوئے تھے۔  وہ وقتاً فوقتاً فیس بک وغیرہ پر اپنی شاعری پیش کرتے ہیں۔

 

اشرف الحق بابو پروتی پور، دینازپور میں ۳  جون ۱۹۵۸  میں پیدا ہوئے۔ وہ ڈھاکہ کالج سے بی اے پاس کیا۔ وہ ”پیغام“ کے مدیر ہیں۔ ان کی زیر نگرانی ”ہمارا ادب“ بھی شایع ہوتا ہے۔ ۲۰

 اشرف الحق بابو نے ۲۵   اگست  ۲۰۲۰ میں یہ تازہ نظم پیش کی ہیں۔

وہ مجھے نیچا دیکھانے کی حماقت کرگیا

اپنی کم ظرفی کا ایک بہتر وکالت کر گیا

ہم سمجھتے تھے کہ وہ نادان ہے انسان ہے۔

لیکن وہ بندر نما دو ایک شرارت کر گیا

سربلندی کو میری برداشتہ کر سکتا نہ تھا۔

اس لئے جعفر و صادق سی عداوت کر گیا

اپنی مطلب کے لئے ملتا رہا مجھ سے مگر

دوسروں کے شہ پہ وہ بے جا حماقت کرگیا

قومی کاموں میں نہ پہلے دیکھئے ذاتی مفاد

آخر ساگر حق بیانی کی جسارت کرگیا

سچ کہا کرتا ہے ساگر اس لئے جلتے ہیں لوگ

اپنی ایمانی جنوں میں وہ بغاوت کرگیا۔ ۲۱

             (محمد اشرف الحق بابو ساگر، سیدپور)

 

ڈھاکہ میں افضل حسین، محمد حسن، محمد عنایت اللہ صدیقی، ارمان شمسی، سلیم، رضوانہ ہاشمی،  طالب علی طالب، رشید احمد وغیرہ بھی اردو میں شاعری کرتے ہیں۔ صابر علی صابر بھی شاعری کرتے  تھے۔

 

ہیکل ہاشمی

بنگلہ دیشی اردو شاعروں میں اس وقت سب سے فعال ہیکل ہاشمی ہیں۔ ان کا اصل نام محمد مصطفے ہیکل ہاشمی ہے۔ ان کے والد مشہور اردو شاعر نوشاد نوری ہیں۔ ان کی والدہ شمس آڑا۔ آبائی وطن دربھنگہ، بہار، بھارت میں۔لیکن ان کی پیدائش ۱۴  نومبر ۱۹۶۰  کو ڈھاکہ میں ہوئی ہے۔

بی کام آنرز اور ماسٹر ان کامرس ڈھاکہ یونیورسٹی سے کی۔ باکونی یونیورسٹی، میلان، اٹلی سے ماسٹر ان بینکینگ بھی کیا۔ پیشے میں وہ  بینکرہیں۔

 بنگلہ، اردو اور انگریزی میں شاعری کرتے ہیں۔ افسانہ نگاری  میں بھی خاص دلچسپی ہے۔  تر جمہ نگاری میں ان کا خاص لطف ہے۔ مضمون  بھی  لکھتے ہیں۔

۱۹۷۵ سے  ان کی تحریر شروع ہوئی اب بھی جاری ہے۔  بنگالی زبان میں ۵ شعری مجموعہ شائع ہو چکا ہے۔ اردو سے بنگلہ میں چھ تراجم کی کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ ان کے افسانے اور افسانچے بنگلہ رسالوں میں شائع ہوتی رہتی ہیں، اور کئے مجموعہ تکمیل کے مرحلے میں ہیں - انگریزی نظمیں اور تراجم مختلف رسالوں میں چھپتی رہتی ہیں - اردو شاعری کا مجموعہ تکمیل کے مرحلوں میں ہے۔ ۲۲

ہیکل ہاشمی کی ایک غزل ملاحظہ ہو:

غزل

شعر گوئی  نہ  شب گزاری  ہے

ذہن پہ  ایک  جمود  طاری  ہے

کیسی تنہائی سی ہے تنہائی

یہ خموشی تو  جاں  پہ  بھاری ہے

پہلے تم  جاؤ  ہم  بھی آتے  ہیں

سب  کو  جانا  تو باری باری  ہے

بن گیا جان کر بھی  تو  انجان

یہ  ادا  تیری کتنی  پیاری ہے

گہرا  رشتہ  میرا  دکھوں کے ساتھ

ان  سے  اپنی   پُرانی  یاری  ہے

چاہ  میں تیری  در بہ  در  پھرنا

یہ مری  جان  ہی کی  خواری ہے

عمر بھر خود سے میری  جنگ رہی

سلسلہ  آج  بھی  یہ  جاری  ہے

کوئی  موہوم  سی  اُمید  تو   ہو

زیست  ہیکل  رمق  سے عاری ہے۔۲۳

 

 ہیکل کا ایک غزل جو  وہ۲۵    اگست ۲۰۲۰   میں  فیس بک پر ڈالا ہے  اس کا مطلع ہے:

سفر بھی زندگی کا کٹ گیا تنہا

ہجوم یار میں بھی رہ گیا تنہا

 

اور اس کا مقطع   ہے:

دیا ہے روگ کس نے تجھ کو ہیکل

سحر تا شام کیوں پھرتا  رہا  تنہا

ان کی ایک نظم جس میں  جدائی کی صدا   سنائی دیتیں ہے۔ وہ بھی اس میں شامل کر لیتا ہوں:

ہجر کا موسم

میرے وجود کے صحرا میں

ایک خشک شجر

محرومِ برگ و ثمر

بادِ سموم کا یلغار

اور دلِ محجور میں

ہجرِ یار کا موسم

آنکھوں کو دے گیا انتظار کا موسم

خشک پتوں کا، پت جھڑ کے آلام کا موسم

ناگ پھُنی پہ بہار کا موسم

اس ریگزارِ زندگانی میں

ہر جانب سراب کا موسم

ان تند و تیز بگولوں کے بیچ

دل میں پوشیدہ گرد و غبار کا موسم

یہ وقت، یہ پل، یہ ساعتِ یار کا موسم

یہاں تو ہے فقط اے دوست

تیرے انتظار کا موسم!   ۲۴

(ہیکل ہاشمی،۷۱   اگست ۲۰۲۰)

 

ہیکل ہاشمی کی دوسری  ایک غزل پھر ملاحظہ ہو

 

یونہی تم مسکراتے رہنا

دل کو لبھاتے رہنا

 

خواب ٹوٹے غم نہیں

نئے خواب سجاتے رہنا

 

رنجش سہی مجھ سے لیکن

بس آتے جاتے رہنا

 

دکھ سارے زمانے کے

دل سے مٹاتے رہنا

 

دل تو اک پاگل ہے

انہونی سے بہلاتے رہنا

 

میرے بغیر کتنے خوش ہو

دوستوں کو بتاتے رہنا

آنکھوں سے ستارے ٹوٹیں

دامن میں چھپاتے رہنا

 

زخم دل لے کر ہیکل

اک فن ہے مسکراتے رہنا۔ ۲۵

 

بنگلہ دیش میں اردو شاعری کی سرگرمیاں ابھی تک چل رہا ہیں۔ ایسا ایک زمانہ تھا جب صرف پرنٹ میڈیا میں اردو شاعری کی سرگرمیاں نظر آتی تھیں۔ لیکن اب زمانہ بدل گیا۔ پرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا میں بھی اردو شاعری کا چرچا ہو رہا ہے۔ اور  روز بروز  یہ سلسلے اور بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ خاص طور پر کرونا کے دوران سے سوشل میڈیا میں اردو شاعری کو کافی مقبول ہو چکا ہے۔ کیونکہ دور دور  کے شعراء بہت آسانی سے اس مشاعرے میں حصہ لے سکتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ مستقبل میں اردو شاعری کی سرگرمیوں میں سوشل میڈیا کا استعمال اور مقبولیت اور بھی بڑھتی جائے گی۔

بنگلہ دیش میں  ابھی تک شعر و شاعری باقی ہے۔ انشاء اللہ آئندہ نسل اس کو آگے بڑھائے گی۔  شاید اس شعر کامصداق بنگلہ دیش ہے:

سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں

ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں

 

حوالہ جات

۱۔  ڈاکٹر محمد غلام ربانی،  بین الاقوامی اردو کانفرنس پر کچھ تشکر، اکیسویں صدی میں اردو ادب، تیسرا عالمی اردو کانفرنس یادگار، ۲۷۔۲۸ جنوری ۲۰۲۰، شعبہ اردو، ڈھاکہ یونیورسٹی، ص ۸، ۲۸اور ۳۴

2.https://www.facebook.com/salam.hameed/posts/pfbid0284djwSnwueutdDHBntegkjK7ZVwxXunEbKBRfMeT34gVj7cLpeMK2N2HohQk827bl

 

۳۔  نوشاد نوری،جلال عظیم آبادی اور روایت ِ غزل، کہکشاں، ہاشمی پبلیشرز، کولکاتا، ۲۰۰۴، ص ۶

۴۔  جلال عظیم آبادی، کہکشاں، ہاشمی پبلیشرز، کولکاتا، ۲۰۰۴،  ص ۲۶

۵۔  جلال عظیم آبادی، کہکشاں،  ڈھاکہ، چوتھا ایڈیشن،۲۰۱۸،  ص۱۰۰

۶۔  احمد الیاس، عذابِ آگہی، بنگلہ۔اردو ساہتیہ فاؤنڈیشن، ڈھاکہ، ۲۰۱۳، ص سر ورق

7.https://www.facebook.com/ahmedilias.82/posts/pfbid0mpr5bpNxfhvFbUobna6Yc5ciVYvM42Y1vDgggWLWVAX3QKiPELKyahTkcgfZHWBpl

8.https://www.facebook.com/ahmedilias82/posts/pfbid033XL7914mDPxiCiqYBQV5VABj8Quvypxk4h5VCMtMgkjE7soJKN1AgHBLB8knqqFcl

9.https://www.facebook.com/ahmedilias.82/posts/pfbid0FRRyTLg4HUiUx1tt7CMrxy316peN7PsiGF3CbrgAbPJt66sQuKSqJ4mCxdPJ6r4jl

۱۰۔ شمیم شمانوی کی زبانی

11.

https://www.facebook.com/groups/firoz20072007/posts/2833946126837435

12. https://www.facebook.com/shamim.zamanviposts/pfbid0q4oDQcH6PcqRRJQKgSpHr9oNEcQq24j3w626eEMau66SCsuiUh1V1FBcj1vcKMTLl

13.

https://www.facebook.com/salam.hameedposts/pfbid02pXtac2niEL78Ybsp17R66q7pmkNYyt9oUqQGPpbXrR6GHfWwSw9rKoga5Jqbq4Hrl

14.

https://www.facebook.com/shamim.zamanvi/posts/pfbid02Sr7jQfsEMtgcaQtfSfBMXcC7yFF7JGM8gARq4gumZ7FmQ43X9Qc4bL3WJAg5arR3l

۱۵۔س۔ م۔ ساجد، ایک مٹھی آسمان، شاہکار پبلکیشنز، ڈھاکہ،دسمبر ۰۲۰۲، ص ۷۶

۱۶۔ محی الدین ہمدم کی زبانی

17.https://www.facebook.com/permalink.php?story_fbid=pfbid0pBWBAxs36xUFEiyqYog7hfE3LRsNhQrmd8k72wStoa7yX8WFGFW5qkXuBMzotQsKl&id=100005158729469

18.  https://www.facebook.com/permalink.php?story_fbid=pfbid02n8uGHMEvyvX393n9qnGfWhgJF1onBqSy1ZjU29VRsGLKuUXYxEcMUqxpraYxn2UXl&id=100010513602965

19.

https://www.facebook.com/permalink.php?story_fbid=pfbid0tvw6M2s3p3JnWwX5WaNHSTKN3FNtiaib7FPq8vAnSbeYJbw5s3xeCVrLtdk3Y2Cyl&id=100010513602965

 

۲۰۔ اشرف الحق بابو کی زبانی

21.

https://www.facebook.com/permalink.php?story_fbid=pfbid0zmGNqfPk4VTnmyAT2y5VMYG7pacZrbC2TiZiQ4xWbnbCF5PLCRfi8RjTL7Pe4AJ7l&id=100033704173595

 

۲۲۔ ہیکل ہاشمی کی زبانی

23.

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02DHJ2HmEN2FETfmY4866Vug ThC8369KQRaqTgVooUU8YcpVvEN1H7DaVAVJEdL2cVl&id=834024207&mibextid=Nif5oz

24.

   https://www.facebook.com/mohammad.hashmi.127/posts/pfbid02Lk6TDQXQpyan6dCrUNL9GvfWhLyQy1sNMvPt4ggfxh37rBWX6aGMagL4FS6PaaEml

 25.

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0XpFUhqzBPuUz8Zm8ZPQRPPinaWcs3LfTZKSxhU5P7MVVcxxcFKUcF5hNbiuek9qTl&id=834024207&mibextid=Nif5oz

 

 

Back to Volume 11
Author(s)
Professor Dr. Mohammad Golam Rabbani
پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی
Professor
Department of Urdu
University of Dhaka
Bangladesh
Details
Type: Article
Volume: 11
Year: 2022
Pages: 238–266
Issue: ڈھاکہ یونیورسٹی جرنل آف اردو
Published: June 30, 2022
ISSN: ISSN 29574951
Publisher: Dhaka University Journal of Urdu
OPEN ACCESS
Cite this Article

Professor Dr. Mohammad Golam Rabbani (2022). Activities of Bangladeshi Urdu Poets on Social Media. Dhaka University Journal of Urdu, 11, 238–266. ISSN: ISSN 29574951.

Professor Dr. Mohammad Golam Rabbani. "Activities of Bangladeshi Urdu Poets on Social Media." Dhaka University Journal of Urdu, vol. 11, 2022, pp. 238–266, ISSN: ISSN 29574951.

Professor Dr. Mohammad Golam Rabbani. "Activities of Bangladeshi Urdu Poets on Social Media." Dhaka University Journal of Urdu 11 (2022): 238–266. ISSN: ISSN 29574951.

Similar Articles

پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی · Vol. 7
محمد شفیق الحسن شہاب · Vol. 8
شعبۂ اُردو — ڈھاکہ یونیورسٹی
Department of Urdu, University of Dhaka

Faculty of Arts, Dhaka University, Dhaka-1000, Bangladesh.
Fostering excellence in Urdu language and literature since 1921.

Contact
  • Faculty of Arts, Dhaka University, Dhaka-1000
  • +880-2-9661920 (Ext. XXX)
  • urdu@du.ac.bd
  • urdu.du.ac.bd
  • Sun–Thu: 9:00 AM – 5:00 PM
Quick Links